Saturday, 18 March 2017

ایسی کیولس ہپ



ایسی کیولس ہیپو کاسٹینم
( تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمٰن
)
ایسی کیولس کے مریض افسردہ مزاج ، چڑ چڑے ہوتے ہیں ۔ دماغی انتشار کے باعث ان میں ذہنی یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔
سارے جسم میں سستی ، تھکن اور کمزوری کا احساس ۔ ایسے مریض میں چستی پھرتی نظر نہیں آتی ۔چھوٹی کمر اور کولہوں میں درد اکڑن اور سختی کے باعث مریضوں کے لیے اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا دشوار ہوتا ہے۔ یہی کیفیت ہمیں ان مریضوں میں دماغی اور جذباتی سطح پر ملتی ہے۔اسکی وجہ انکی وریدوں میں دوران خون کی سستی ہے ۔ خون سے وریدیں ہمیشہ پر رہتی ہیں ۔مندرجہ بالا علامات و کیفیات اکثرادھیڑ عمر اور بوڑہے افراد میں نمایاںطور پر پائی جاتی ہیں۔ مریض اپنی بیماری کا نقطہءآغاز معدے اور جگر کی خرابی بتاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اسنے زندگی بڑی چاق و چوبند گذاری ہے ۔ اسکا نظام ہضم بھی مثالی تھا ۔ بس بڑہاپے میں آکر اسکی صحت بری طرح گر گئی ہے ۔ ایسی کیولس کے انتخاب میں چنداصولی علامات خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہیں ۔
۱: ایسی کیولس کی علامات لیکسس کی مانند دوران نیند بڑہتی ہیں۔ جسمانی سستی ، کاہلی ، معدہ و امعا کی خرابی ، خصوصاً اسکا دماغ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے ۔ مریض جب سوکر اٹھتا ہے تو اسے اپنے حواس یکجا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ جاگنے پر حواس باختہ ہوتاہے اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاںہے۔اس سے ملتی جلتی کیفیت لائکو پوڈیم میں بھی پائی جاتی ہے خصوصاً بچوں میں بچے یکدم ڈر کر اٹھتے ہیں ،بلا وجہ چیختے چلاتے ہیں ، بد حواس دکھائی دیتے ہیں ، لگتا ہے کہ کسی کو نہیں پہچان رہے ۔ کچھ دیر بعد حواس میں آجاتے ہیں ۔
۲: دوسری کیفیت سستی ، کاہلی اور بوجھل پن کا احساس ہے ۔ مریض میں چستی اور پھرتی اور ترو تازگی نہیں ہوتی خصوصاً آرام کرنے کے بعد ۔ مریض چاہتا ہے کہ پھر لیٹ جائے ۔ اگر وہ ہمت کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اور کام کاج ، محنت مشقت میں لگ جاتا ہے تو دوران خون کی تیزی سے یہ سستی کاہلی چھٹ جاتی ہے۔
۳: تیسری عمومی کیفیت وریدی اجتماع خون ہے ۔ در اصل یہی وریدوںمیں سست دوران خون ہی اسکی سستی اور کاہلی کا ذمہ دار ہے ۔ یہ اجتماع خون مقامی سطح پر بھی ہوتا ہے ۔ جسکے باعث وریدیں پھول جاتی ہیں ، زخمی ہو جاتی ہیں ،انمیں گانٹھیں پڑ جاتی ہیں، درد کرتی ہیںاور متاثرہ جگہ ارغوانی رنگت اختیار کرلیتی ہے ۔ وریدوں کی یہ حالت خاص طور پر ویری کوز وینز کی شکل میں پنڈلیوں ۔ اور بواسیری مسوں کی شکل میں مقعد میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ رحم میں وریدی سوزش کے نتیجے میں بوجھ کا احساس ہوتا ہے ۔ مریضہ کو لیکوریا کی مزمن تکلیف ہو جاتی ہے جو کہ زرد ، گاڑھا اور لیسدار ہوتا ہے ۔
۴: اسی ناقص گردش خون کے ساتھ چھوٹی کمر میں درد ، سختی اور اکڑن کی تکلیف رہتی ہے۔
ایسی کیولس سست دوا ہے ۔ ا سکی علامات دھیرے دھیرے بڑہتی ہیں اور دھیرے دھیرے ہی شفائی اثرات نمودار ہوتے ہیں ۔
نظام ہضم کی خرابی کے ضمن میں مریض کی داستان کچھ یوں ہوتی ہے کہ کھانے کے بعد پیٹ بہت بھرا ہوا لگتا ہے ، اسکے ساتھ بے آرامی اور بیچینی محسوس ہوتی ہے ۔ بسا اوقات پیٹ میں جلندار درد ہونے لگتا ہے ۔یہ بھرا
اور بیچینی کا احساس اگلے کھانے تک چلتا ہے ۔ اسوقت تک مریض کی تکلیف میں کمی آچکی ہوتی ہے ۔ کھانے کے بعد پھر یہ تکلیف شروع ہو جاتی ہے ۔مزمن کیسوں میں معدے میں السرز بھی ہو جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں پیٹ میں یہ بہت بھرے ہونے کا احساس اور بے چینی قے کا باعث بنتی ہے ۔ کچھ مریضوں میں تھوڑی تھوڑی غذا کی قے ہوتی رہتی ہے جو کہ نہائت کھٹی ہوتی ہے ۔ کچھ مریضوں کو منہ بھر کر قے ہو جاتی ہے ۔ ہر دو صورتوں میں معدہ خالی ہو جانے پر مریض نہائت سکون محسوس کرتا ہے ۔( کھانے کے بعد قے ۔ فیرم ، فاسفورس ، آرسینیکم) ایسی کیولس کی ایک اور نمایاں علامت سینے میں جلن (HearT burn ) ہے ، اسکے ساتھ تیزابی ، گندے ، کھٹے اور بدمزہ ڈکار آتے ہیں ۔ ان ڈکاروں کے ساتھ کھٹی غذا حلق کو چڑہتی ہے ۔
ان علامات والے مریضوں کا آپ فزیکل معائنہ کریں یا انکی الٹرا سا
نڈ کی رپورٹ دیکھیں تو یقینی طور پر جگر کچھ بڑہا ہوا ملے گا ۔
ایک اور نمایاں ترین علامت آپکو کمر درد اور کمر میں سختی اور اکڑن کی صورت میں ملے گی۔ مریض بتاتا ہے کہ بیٹھنے پر اسکی کمر دکھنے لگتی ہے اور اتنی اکڑ جاتی ہے کہ اسکے لیے کرسی سے اٹھنا مشکل ہوتا ہے ۔وہ یکدم سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ وہ کمر کو پکڑیں گے بڑی مشکل سے سیدھے ہونگے اور کچھ چلنے کے بعد نارمل ہونگے ۔( بیٹھ کر اٹھنا مشکل ، سلفر ، پٹرولیم ، اگاریکس )بسا اوقات یہ کمر درد مسلسل رہنے لگتا ہے اور مریض کے لیے چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے ۔ یہ علامت اتنی کنفرم ہے کہ ہو میو پیتھس کا یہ کہنا ہے کہ بوا سیر یا لیکوریا جسکے ساتھ چھوٹی کمر میں درد اکڑن اور سختی کی علامت موجود ہو تو یہ ایسی کیولس کے انتخاب کے لیے کافی ہے ۔
مریض کی قوت ہضم سست اور کمزور ہوتی ہے اسے بھوک کم لگتی ہے ۔ لیکن پیاس ٹھیک ٹھاک لگتی ہے ۔ اکثر قبض رہتی ہے ۔اکثر مریض پر درد بادی بواسیر کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں ، مقعد میں لگتا ہے جیسے کھپچیاں ٹھنسی ہوئی ہیں ۔ پاخانے کے اخراج میں دقت ، مقعد میں جلن اور شدید درد ہوتا ہے ۔ ارغوانی رنگ کے پھولے ہوئے مسّے۔مقعد میں کھپچیوں کا احساس کالنسونیا میں بھی ملتا لیکن اتنا شدید نہیں۔ کالنسونیا میں قبض ایسی کیولس سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ ایسی کیولس میں زیادہ تر بادی بواسیر ہوتی ہے جبکہ کالنسونیا میںخونی۔اسکے علاوہ کمر درد کی علامت بھی کالنسونیا اور ایسی کیولس میں تفریق کر دیتی ہے۔ نائٹرک ایسڈ میں بھی مقعد میں تیز چبھن دار درد ہوتے ہیں لیکن انکی نوعیت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی شیشے کی کرچ چبھی ہوئی ہو یا باریک چیر پڑے ہوئے ہوں ، مریض پاخانے کے بعد گھنٹوں درد سے بیچین ہوکر ٹہلتا رہتا ہے ۔
ایسی کیولس کے مریض پیٹ پر دبا
اور کسا برداشت نہیں کر سکے ۔ آزار بند ڈھیلا باندھتے ہیں ، پینٹ یا بیلٹ کا کسا انہیں تکلیف دیتا ہے ۔ انکی سستی ، تھکن ، کمر درد ، صبح کے وقت نمایاں ہوتی ہے ، اٹھنے کے بعد اتنی سستی اور تھکن ہوتی ہے کہ وہ دوبارہ لیٹ جانا چاہتے ہیں۔ اگر دوپہر کا کھانا کھاکر لیٹ جائیں تو سستی تھکن کاہلی اور بوجھل پن کے علاوہ کھٹے ڈکار اور معدے کی بے آرامی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
یاد رہے کہ تجویز دوا کے لیے مجموعہ علامات پر انحصار کریں نہ کہ کسی ایک یا دو مخصوص علامات پر مثلاً دوران نیند یا سونے کے بعد اضافہ ، پیٹ پر دبا
اور کسا سے حساسیت ، وریدی اجتماع خون ، ویری کوز وینز ، متاثرہ جگہ کی رنگت کا ارغوانی ہونا ، لیکسس کی مخصوص علامات میں سے ہیں ۔ لیکن دونوں ادویات کی ذہنی اور جذباتی علامات ایک دوسری کو جدا کرتی ہیں ۔ ایسی کیولس کے مریض ذہنی طور پر سست ، منتشر الخیال ہوتے ہیں جبکہ لیکسس کے مریض تیز ، شکی ، متجسس اور باتونی۔ اسی طرح ایسی کیولس کے ادھیڑ عمر مریضوں کی کیس ہسٹری میں یہ بات ملتی ہے کہ انکی صحت میں انحطاط آنے سے پہلے انہیں ریاحی دردوں کی تکلیف رہی تھی ۔ یہ درد آوارہ نوعیت کے تھے ۔ یہ تکلیف ٹھیک ہونے کے بعد سے نہ صحت رہی نہ معدہ و جگر ! آپ اسے سلفر کھلا دیتے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ، تو یہ قصور نہ دوا کا ہے نہ مریض کا بلکہ آپکا انتخاب ہی درست نہیں تھا ۔



              سید کے بلاگ پرخوش آمدید

رسٹاکس

رسٹاکس۔ تجربات و مشاہدات

تحریر و ترتیب: ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمٰن (پارٹ ۔ 1)

( زیر نظر مضمون میں رسٹاکس کی صرف انہی خصوصیات اور علامات کا ذکر ہے، جنہیں میرے کلینک پر مختلف مریضوں، میں تجویز دوا کے لیے بنیاد بنایا گیا اور
جنہیں میں نے اپنی پریکٹس میں بارہا آزمایا، اور درست پایا)
رسٹاکس ہومیو پیتھک پریکٹس میں روز مرہ کی دوا ہے۔ اپنی منفرد اور نمایاں علامات کے تحت بے شمار امراض و کیفیات کو درست کرنے میں معجزانہ اثرات کی حامل ہے۔ہر جنس و عمر کے
مریض اس سے یکساں مفید ہوتے ہیں ۔اسکی نمایاں ترین خصوصیت اعضا ء جسم میں بے کل اور بے قرارار کردینے والی اکڑن اور سختی کی کیفیت ہے جسے حرکت سے وقتی افاقہ ہوتا ہے۔مریض اس عارضی ریلیف کے حصول کے لیے اعضائے جسم کو کھینچتا تانتا اور حرکت دیتا رہتا ہے۔بستر پر ہو تو کروٹیں بدلتا رہتا ہے اسے کسی پہلو قرار نصیب نہیں ہوتا۔
رسٹاکس کی اسی نمایا ں خصوصیت سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے ، اسے عضلات، پٹھوں، جوڑوں اور دیگر اعضاء جسم کی متعدد قسم کی تکا لیف کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
٭ ایک مریض جوکہ عرصہ دراز سے بائی کی دردوں میں مبتلا تھا ، اسے اپنے جسم کے تمام اعضاء اکڑے ہوئے اور سخت محسوس ہوتے تھے ، خصوصاً گردن، شانوں،بازؤں اور ٹانگوں اور جوڑوں میں دردیں نمایاں تھیں، اسکی یہ تکلیف رات کے وقت، آرام کی حالت میں اور سردی سے بڑھ جاتی تھی۔ ان دردوں اور اعضاء کی اکڑن اور سختی سے نجأت پانے کے لیے مریض اپنے اعضاء جسم کو کھینچتا، تانتا اور مروڑتا رہتا تھا جس سے اسے وقتی ریلیف ملتا تھا۔ اسکے لیے رسٹاکس200 تجویز کی گئی ، چند ہی دنوں میں اسکی تمام تکلیف
رفع ہو گئی۔
٭ ایک مریض جو کہ ملیریا کے بخار میں مبتلا تھا، ملیریا کی معلوم علامات کے علاوہ مریض کی عمومی کیفیت یہ تھی کہ اسے کسی کروٹ چین نہیں تھا، کبھی ایک کروٹ لیٹتا تو کبھی دوسری کروٹ
کبھی ٹانگیں سمیٹتا تو کبھی پھیلاتا ، کبھی بازؤوں کو کھینچتا تانتا نظر آتا۔ اس بیقراری کی وجہ اسنے یہ بتائی کہ اسکے تمام اعضاء، پر درد، اکڑے ہوئے اور سخت محسوس ہوتے ہیں
یہ اکڑن اور سختی اسے حرکت پر مجبور کرتی ہے جس سے وقتی ریلیف ملتا ہے۔ اسکے لیے رسٹاکس10 ایم تجویز کی گئی ، اگلی صبح بخار کا نام و نشان نہ رہا۔
وزن اٹھانے سے یاجسم کے کسی حصے پر غلط زاویے سے کھنچاؤ تناؤ کے باعث بل پڑ جائے ، تکیے کی غلط پوزیشن سے گردن میں بل پڑجائے، کسی حصے میں موچ آجائے اگر متاثرہ حصے میں بیقرار کردینے والی اکڑن اور سختی موجود ہو، جسے حرکت سے وقتی ریلیف ملے تو رسٹاکس یقینی دوا ہوتی ہے۔
٭ایک مریضہ موسم برسات میں اپنی کچی اور ٹپکتی ہوئی چھت کی درستگی کے لیے اوپر چڑھی، اچانک چھت کا ایک بوسیدہ اور کرم خوردہ بالا ٹوٹ گیا اور چھت میں سوراخ ہو گیا مریضہ اس سوراخ میں سے نیچے گری۔ گرتے ہوئے اسنے بے اختیار سوراخ کے کناروں کو پکڑ لیا، یوں وہ نیچے زمیں پر گرنے سے تو بچ گئی لیکن چھت کے ساتھ لٹک گئی۔ اسکی چیخ و پکار سن کر اسے
۵۔ ۰۱ منٹ بعد بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ۔ فضا میں معلق رہنے کے باعث اسکے دونوں بازو شل ہو چکے تھے، کچھ علاج معالجے اور مالش وغیرہ سے بازؤں کی حس و حرکت تو واپس آگئی لیکن مریضہ نہ بازو اوپر اٹھا سکتی تھی، نہ انہیں آزادانہ گھما سکتی تھی، ان میں شدید درد ہوتا تھا اور بازو کمزور، اکڑے ہوئے اور کھنچے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ اس حادثے کے تقریباًدو سال بعد اسنے ہو میو پیتھک سے رجوع کیا، مسلز اور پٹھوں پر نا مناسب کھنچاؤ پڑنے کی بنیاد پر اسکے لیے رسٹاکس30 تجویز کیا گیا، صرف دو ہفتوں میں اسکی مہینوں پرانی
تکلیف یوں دور ہو ئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

رسٹاکس

رسٹاکس۔ تجربات و مشاہدات(پارٹ ۔2)

تحریر و ترتیب: ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمٰن

رسٹاکس بھیگ جانے، جسم گرم ہونے کی حالت میں ٹھنڈ لگ جانے ، سرد گرم ہوجانے سے پیدا شدہ تکا لیف کی بہترین دوا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس قسم کا عارضہ لا حق ہوا ہے، عام جسمانی دردیں ہوں یا نزلہ زکام ، بخار ہو یا جوڑوں کا درد حتیٰ کہ فالج تک ہی نوبت کیوں نہ جا پہنچی ہو، اگر اسکا سبب بھیگ جانا، یا سرد گرم ہو جانا ہو تو
رسٹاکس درجہ اول کی دوا ہے۔
٭ ایک پر درد اور کثرت حیض کی مریضہ نے اپنا حال یوں بتایا کہ وہ حالت حیض میں اپنے آبائی گاؤں روانہ ہوئی، انکا گاؤں پکی سڑک سے چار پانچ کلو میٹر دور تھا، بس سے اترنے کے بعد گاؤں تک پیدل جانا پڑتا تھا۔ گاؤں کے اس کچے راستے پر انہیں بارش نے آن لیا۔ گاؤں پہنچنے تک وہ بری طرح بھیگ گئی، اسے شدید بخار ہو گیا،اسکے کے ساتھ حیض نے بھی شدت پکڑ لی، زچگی کے سے شدید درد ہونے لگے،تقریباً ایک ماہ مسلسل علاج معالجے کے بعد اسکا بخار تو اتر گیا لیکن حیض جلد جلد اور بکثرت آنے لگا، دوران حیض اسے زچگی کے سے درد ہوتے تھے ۔اس تکلیف نے اسے نچوڑ کر رکھ دیا تھا، بہتیرے علاج معالجے کیے گئے لیکن شفا نہ ہوئی۔ آخر ہو میو پیتھک طریق کو بھی آزمانے کا فیصلہ ہوا، دیگر علامات سے صرف نظر کرتے ہوئے اور اسکے مرض کا باعث بھیگ جانے کو ٹھہراتے ہوئے اسکے لیے رسٹاکس 10ایم تجویز کی گئی ، رسٹاکس کے معجزہ نما اثرات نے انہیں ہمیشہ کے لیے ہو میو پیتھی کا معتقد بنا دیا۔
رسٹاکس کی تکالیف ہمیشہ سردی سے، نمی سے، شام کے بعد، اور رات کے وقت بڑہتی ہیں، حرکت اور گرمی سے کم ہوتی ہیں۔
٭ایک مریض جسکی داہنی ٹانگ میں عرصہ دراز سے لنگڑی کا درد تھا، اسکے ہمراہ چھوٹی کمر میں بھی تکلیف تھی، ایلو پیتھک ڈاکٹرز کے بقول یہ درد مہروں کی خرابی کے باعث تھا۔ کیس ٹیکنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ درد میں شدت سردی، مرطوب موسم اور رات کے وقت ہوتی تھی، درد چیرنے پھاڑنے کی نوعیت کے تھے، ٹانگ کے پٹھے کھنچے ہوئے محسوس ہوتے تھے، لیٹنے کی حالت میں مریض ٹانگ کو کبھی پھیلاتا کبھی سمیٹتا ، درد والی سمت لیٹنے سے درد بڑھ جاتا تھا، نصف شب کے بعد تو مریض کے لیے لیٹنا نا ممکن ہوجاتا تھا ،وہ بستر سے نکل کر ٹہلتا ، یا گرم پانی کی بوتل سے سینکائی کرتاجس سے قدرے ریلیف ملتا، دوبارہ لیٹنے پر اور ٹانگ ٹھنڈی ہونے پر پھر درد اور بیقراری شروع ہو جاتی، کمر کا درد، سختی اور اکڑن بیٹھنے اور آرام کرنے سے بڑھتے تھے۔ اس تکلیف کو بھی حرکت سے ریلیف ملتا تھا۔متذکرہ بالا علامات کی روشنی میں رسٹاکس 200، کچھ عرصے بعد ایک ہزار پھردس ہزار طاقت میں دی گئی، مریض بسرعت شفا یاب ہو گیا۔
کمر درد میں تو رسٹاکس شہرہ آفاق دوا ہے، لیکن یہ ہر قسم کی کمر درد کو ٹھیک نہیں کرتی، رسٹاکس کے کمر درد مخصوص ہوتے ہیں، کمر کے مسلز میں سختی اور کڑا پن ہوتا ہے۔ یہ درد بیٹھنے سے بڑہتے ہیں، انمیں چلنے سے یا کسی سخت چیز پر لیٹنے سے کمی آتی ہے۔مریض کی رات کروٹیں بدلتے گذرتی ہے۔

رسٹاکس

تجربات و مشاہدات (پارٹ-3)

رسٹاکس

ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان

مسلز اور پٹھوں میں سختی کا احساس یا درد جو حرکت پر مجبور کردے رسٹاکس کا امتیازی نشان ہے۔ جسمانی بے چینی اور بے قراری رسٹاکس کی ہر تکلیف میں موجود ہوتی ہے۔
نمی اور سردی سے اور مغرب کے بعد ،رات کے وقت تکالیف میں اضافہ بھی رسٹاکس کی خصوصیات میں شامل ہے۔ مرطوبیت کے حوالے سے تو رسٹاکس کو انسانی بیرو میٹر کہنا چاہیے۔ کرانک کیسوں میں مریضوں پر موسمی تغیر کے، اثر کا مشاہدہ نمایاں طور پر کیا جاسکتا ہے۔ بارش آنے سے قبل ہی مریض کے سارے جسم، خصوصاً جوڑوں میں دکھن اور سختی محسوس ہونے لگتی ہے۔جوکہ سرد مرطوب فضا میں ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔
نچلے جبڑے کے جوڑ میں کھانا کھاتے وقت کڑکن، کوئی چیز چباتے ہوئے، یا ، اباسی (جماہی) لیتے وقت جبڑے کا جوڑ نکل جانا رسٹاکس کے حلقہء اثر میں آتا ہے، ہمیں ایک مریض میں اس علامت کی تصدیق کا بھی موقع ملا، ایک پچیس تیس سالہ نو جوان میں عرسہ دراز سے بالکل یہی کیفیت تھی، باتیں کرتے کرتے بھی اسکے جبڑے کا جوڑ ڈس لوکیٹ
ہوجاتا تھا، پہلے وہ اسے اپنی جگہ پر واپس لانے کے لیے جوڑ چڑھانے والوں کے پاس جایا کرتا تھا، پھر بار بار ایسا ہونے کے سبب اسے خود ہی اتنی مہارت ہو گئی کہ اب وہ جوڑ کو
ایک خاص زاویے سے دباکر خود ہی ٹھیک کرلیتا تھا اسے کافی عرصے تک وقفے وقفے سے رسٹاکس 6 طاقت میں دی گئی اسکے جوڑ کا ڈھیلا پن بالکل دور ہوگیا۔
رسٹاکس کا شمار عام بخاروں کے علاوہ ٹائیفائیڈ میں بھی درجہ اول کی ادویات میں ہوتا ہے ۔ ٹائیفائیڈ بخار میں بے چین اور بے قرار کردینے والے جسمانی دردوں اور سختی کے علاوہ
مریض کی زبان پر بھی ایک مخصوص کیفیت بھی دیکھی جاسکتی ہے، مریض کی زبان خشک، پھٹی ہوئی اور اس پر سرخی مائل بھوری میل جمی ہوئی دکھائی دیتی ہے جبکہ زبان کی نوک والا تکونی حصہ سرخ اور چمکدا ہوتا ہے۔ پیٹ ریاح سے تن جاتا ہے، چھونے سے دکھتا ہے۔مریضوں کو عموماً زرد یا بھوری رنگت کے بدبو دار اسہال آتے ہیں۔یا پھر پتلے بلغم او رخون آمیز پاخانے آتے ہیں۔ یہ اسہال یا پیچش نما پاخانے رات کو زیادہ آتے ہیں، دن کے وقت نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ ٹائیفائیڈ بخار میں زبان سے، مسوڑھوں سے خون رسنا بھی رسٹاکس کی نمایاں علامت ہے ۔رسٹاکس میں بھوک اور پیاس کی علامات بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ مریضوں کو شدید بھوک لگتی ہے یا معدے میں خالی پن اور نقاہت کا احساس ہوتا ہے لیکن کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ البتہ پیاس خوب لگتی ہے اور مریض پانی بھی خوب پیتا ہے لیکن ٹھنڈا۔خصوصاً ٹھنڈے دودھ کی طلب نمایاں ہوتی ہے۔ رسٹا کس کے بخار عموماً شام کو چڑھتے ہیں یا شدت پکڑتے ہیں اور شب بھر رہتے ہیں۔ان مخصوص علامات کی راہنمائی میں ٹائیفائیڈ کے لا تعداد مریضوں کو رسٹاکس نے شفایاب کیا۔
خشک تکلیف دہ کھانسی جسمیں سردی سے اضافہ ہو، مریض خوب اوڑھ لپیٹ کر لیٹتا ہے، کوئی عضو لحاف سے باہر ہوا نہیں کہ کھانسی شروع! بخار کے ساتھ کھانسی کاسردی کے مرحلے
میں آنا بھی رسٹاکس میں کچھ کم مخصوص نہیں، خشک کھانسی آتی ہے پھر سردی لگنی شروع ہو جاتی ہے، بخار چڑھ جانے تک کھانسی آتی رہتی ہے، جب مریض کا جسم بخار سے تپ جاتا ہے تو کھانسی میں بھی نمایاں کمی آجاتی ہے۔ رسٹاکس کے بخاروں میں نیٹرم میور کی مانند منہ کے کناروں پر یا ٹھوڑی پر آبلے نکلتے ہیں۔ ان پر زرد کھرنڈ آتا ہے،اسمیں جلن اور خارش ہوتی ہے جو جلد کو کھرچنے پر مجبور کرتی ہے۔نیٹرم میورکی رطوبت لیسدار یا پانی سی، تقریباً شفاف ہوتی ہے، جبکہ رسٹاکس کی رطوبت پیپ نما اور سرخی مائل۔
چکن پاکس میں رسٹاکس کو بھولنا جہالت کی انتہا ہوگی، جلد سرخ اور قدرے متورم، چھالے نما سرخی مائل ابھار، ان میں سخت خارش اور جلن، جسمانی بے چینی اور بے قراری،

تجربات و مشاہدات (پارٹ۔ 4)

رسٹاکس

ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان

ٹھنڈے پانی کی شدید پیاس، زبان پھٹی ہوئی، نوک زبان سرخ ، شام کے وقت بخار یا اسمیں شدت، تکلیف میں رات کے وقت اضافہ، رسٹاکس کی تجویز کے لیے کافی علامات ہیں۔رسٹاکس کن پیڑوں کی بھی ممتاز دوا ہے۔ بائیں جانب کے پیرو ٹائیڈ گلینڈ میں سوزش اور ورم جبکہ رسٹاکس کی دیگر علامات بھی موجود ہوں۔
رسٹاکس کا شمار جلدی تکالیف کی مستند ہومیو پیتھک ریمیڈیز میں ہوتا ہے، ایکزیما، داد، ہرپیز زوسٹر جیسی ہٹیلی اور اذیتناک بیماریوں میں مخصوص علامات کے تحت وثوق سے تجویز کی
جاتی ہے۔ رسٹاکس کی ہر قسم کی جلدی تکالیف میں چھالے نما ابھار ملتے ہیں، رسٹاکس کے ابھار ہمیشہ سرخی مائل ہوتے ہیں، ان میں غضب کی خارش اور جلن پائی جاتی ہے جسمیں رات کے وقت اور سردی سے اضافہ ہوتا ہے۔ رسٹاکس کے ابھاروں سے رطوبت رستی رہتی ہے۔ ان سے نکلنے والی رطوبت کا اگر لیبارٹری میں تجزیہ کیا جائے تو اس میں ریڈ بلڈ سیلز اور لیو کو سائیٹس بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں، یعنی رطوبت خون آمیز ہوتی ہے۔ یہ رطوبت جہاں لگتی ہے متاثرہ حصے کو سرخ کر دیتی ہے۔رسٹاکس کا ایکزیما گو کہ جسم کے کسی بھی حصے پر ہو سکتا تاہم میں نے زیادہ تر ٹانگوں اور پیروں پر دیکھا ہے۔ ا س میں شدیدخارش اور جلن ہوتی ہے، جوکہ رات کے وقت بڑھ جاتی ہے،ایکزیما کے ابھاروں سے پتلی خراشدار رطوبت رستی رہتی ہے، جو گرد و نواح کی جلد کو کچا کر دیتی ہے۔ متاثرہ مقام میں جلد کے چھل جانے سا احساس ہوتا ہے۔ اور یہ موسم برسات اور سرد مرطوب فضاء میں بڑہتا ہے۔ رسٹاکس بچوں کے سر پر ہونے والی تر داد کی بھی معروف دوا ہے۔
٭مجھے ہرپیز کا پچپن سالہ ایک مریض آج بھی یاد ہے، جسے داہنی جانب، گردن سے کمر تک ہرپیز کے چھالے نکلے تھے۔ ہرپیز کے چھالوں میں درد، جلن اور خارش ہونا عام سی بات ہے۔ مجھے رسٹاکس کی علامات مریض کی عمومی کیفیات میں ملیں۔ مریض کی تمام تکلیف شام کے بعد بڑہتی تھی، اسکی زبان پرچیر پڑے ہوئے تھے، اور کناروں پر دانتوں کے نشان نمایاں تھے،زبان خشک سی میل سے اٹی ہوئی اور نوک زبان صاف اور سرخ تھی، اسے منہ میں شدید خشکی کا احساس ہوتا تھا، پیاس بہت لگتی تھی،وہ ٹھنڈا پانی پینا پسند کرتا تھا،گو کہ اس سے اسکی سردی میں اضافہ ہوجاتا تھا، روزانہ شام اسے بخار ہو جاتا تھا، سرد مزاجی اور بے چینی و بے قراری کے ساتھ ایک اور ذہنی علامت نے میرا دھیان رسٹاکس کی طرف کھینچا۔ مریض مایوس اور تکلیف سے روتا تھا، اسنے کہا ڈاکٹر صاحب! اس تکلیف سے تو بہتر ہے کہ بندہ کسی نہر میں چھلانگ لگا کر ڈوب مرے ، گھر والوں نے بتایا کہ یہ روزانہ شام تکلیف میں شدت آنے پر یہی بات دہراتے ہیں۔ خود کشی کا خیال اور وہ بھی ڈوب کر ! (کینٹ نے اپنی ریپرٹری میں،رسٹاکس کو اس علامت کے تحت نمایاں ادویات میں شمار کیا ہے)۔انہی نمایاں علامت کی بنیاد پر رسٹاکس ا ایم میں دی جاتی رہی جسنے شاندار طریقے سے مریض کی تمام کیفیات کو نارمل کر دیا۔ متذکرہ بالا علامات رسٹاکس کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔

تجربات و مشاہدات (پارٹ۔ 5)

رسٹاکس
ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
ارٹی کیریا یعنی چھپاکی ، جو بخار کے دوران نمو دار ہو ، رسٹاکس اسے دور کرنے میں شاذ ہی ناکام ہوئی ہے۔بھیگ جانے، یا مرطوب موسم میں چھپاکی جبکہ دیگر علامات بھی ہوں تو رسٹاکس شاندار اثر دکھاتی ہے۔
موسم برسات میں آشوب چشم، آنکھیں سوجی ہوئیں،۔آنکھیں کھولنا دشوار، پلکوں کو کھولا جائے تو گرم گرم پانی بے تحاشا بہتا ہے جوکہ خراشدار ہوتا ہے۔زرد پیپ جیسا مواد نکلتا ہے متورم اور سوزش زدہ آنکھوں سے ابل کر خراشدار پانی کا اخراج۔ یہ رسٹاکس کی ایک ایسی پکی علامت ہے جسکی صداقت کا مجھے ذاتی تجربہ ہے۔امراض قلب ۔اگر قلب سائز میں بڑہا ہوا ہو، اسکے ساتھ بائیں بازو میں بھی دکھن اور سن ہونے کا احساس اور ماضی میں شدید جسمانی محنت، مشقت اور سخت قسم کی ورزش کی ہسٹری ملے،مریض شکستہ دل، بے چین اور بیقرار رہتا ہوتو رسٹاکس مرض سے چھٹکارا دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امراض قلب اور ریاحی دردوں کے مریضوں میں عموماً پیر لٹکا کر بیٹھنے سے پاؤں خصوصاً ٹخنے متورم ہو جاتے ہیں،گو کہ یہ اکیلی مریض کو شفا یاب نہیں کرسکتی ، تاہم یہ ادویہ کی چین میں شامل ضرور ہوتی ہے۔
رسٹاکس میں ذہنی علامات کم ہی ملتی ہیں ، مگر سختی اور کڑا پن جسمانی سطح کی طرح ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی پایا جاتا ہے، کوئی خیال یا کیفیت ذہن میں جم جاتی ہے تو جاتی نہیں،اپنے جذبات کے اظہار میں کٹھور پن کا مظاہرہ کرتے ہیں ، نرمی اور گداز نام کو نہیں ہوتے۔ بخاروں میں ہلکی قسم کے ہذیان ملتے ہیں، رسٹاکس کے مریضوں کے خواب عموماً مشقت بھرے اور تھکا دینے والے ہوتے ہیں۔
رسٹاکس کی مخصوص ترین علا مات پر ایک نظر
جسمانی اعضاء اور جوڑوں میں بے چین اور بے قرار کردینے والے درد، سختی اور اکڑن، جن کے باعث مریض اعضاء کو کھینچتا، سمیٹتا اور بستر میں کروٹیں بدلتا رہے، مرطوب موسم، سردی اور رات کے وقت نمایاں اضافہ امراض قلب میں بائیں بازو کی دکھن اور سن ہو جانا۔ دیر تک ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے رہنے سے مثلاً دوران سفر، ٹخنوں کے گرد سوجن۔کمردرد۔ کمر میں سختی اور اکڑن ، جوکہ بیٹھنے اور لیٹنے سے بڑہے، حرکت سے افاقہ ہو گوکہ حرکت کے آغاز میں تکلیف بڑہتی ہے لیکن مسلسل حرکت سے نمایاں کمی ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی سخت چیز پر چت لیٹنے سے بھی ریلیف ملے، سرد یا مرطوب موسم اور رات کے وقت اضافہ ، جسمانی اعضاء کو کھینچنے، تاننے، اعضاء میں موچ آجانے، وزن اٹھانے سے ، بھیگ جانے اور سرد گرم ہو جانے سے پیدا شدہ تکالیف۔ تر ایکزیما اور داد،چھالے اور پیپ دار سرخی مائل پھنسیاں، جن میں خارش اور جلن ہو، جسم کے کسی حصے کو لحاف سے باہر نکالنے پر خشک کھانسی ۔ بخار چڑہنے سے پہلے خشک کھانسی۔