ایسی کیولس ہیپو کاسٹینم
( تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمٰن )
ایسی کیولس کے مریض افسردہ مزاج ، چڑ چڑے ہوتے ہیں ۔ دماغی انتشار کے باعث ان میں ذہنی یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔
سارے جسم میں سستی ، تھکن اور کمزوری کا احساس ۔ ایسے مریض میں چستی پھرتی نظر نہیں آتی ۔چھوٹی کمر اور کولہوں میں درد اکڑن اور سختی کے باعث مریضوں کے لیے اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا دشوار ہوتا ہے۔ یہی کیفیت ہمیں ان مریضوں میں دماغی اور جذباتی سطح پر ملتی ہے۔اسکی وجہ انکی وریدوں میں دوران خون کی سستی ہے ۔ خون سے وریدیں ہمیشہ پر رہتی ہیں ۔مندرجہ بالا علامات و کیفیات اکثرادھیڑ عمر اور بوڑہے افراد میں نمایاںطور پر پائی جاتی ہیں۔ مریض اپنی بیماری کا نقطہءآغاز معدے اور جگر کی خرابی بتاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اسنے زندگی بڑی چاق و چوبند گذاری ہے ۔ اسکا نظام ہضم بھی مثالی تھا ۔ بس بڑہاپے میں آکر اسکی صحت بری طرح گر گئی ہے ۔ ایسی کیولس کے انتخاب میں چنداصولی علامات خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہیں ۔
۱: ایسی کیولس کی علامات لیکسس کی مانند دوران نیند بڑہتی ہیں۔ جسمانی سستی ، کاہلی ، معدہ و امعا کی خرابی ، خصوصاً اسکا دماغ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے ۔ مریض جب سوکر اٹھتا ہے تو اسے اپنے حواس یکجا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ جاگنے پر حواس باختہ ہوتاہے اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاںہے۔اس سے ملتی جلتی کیفیت لائکو پوڈیم میں بھی پائی جاتی ہے خصوصاً بچوں میں بچے یکدم ڈر کر اٹھتے ہیں ،بلا وجہ چیختے چلاتے ہیں ، بد حواس دکھائی دیتے ہیں ، لگتا ہے کہ کسی کو نہیں پہچان رہے ۔ کچھ دیر بعد حواس میں آجاتے ہیں ۔
۲: دوسری کیفیت سستی ، کاہلی اور بوجھل پن کا احساس ہے ۔ مریض میں چستی اور پھرتی اور ترو تازگی نہیں ہوتی خصوصاً آرام کرنے کے بعد ۔ مریض چاہتا ہے کہ پھر لیٹ جائے ۔ اگر وہ ہمت کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اور کام کاج ، محنت مشقت میں لگ جاتا ہے تو دوران خون کی تیزی سے یہ سستی کاہلی چھٹ جاتی ہے۔
۳: تیسری عمومی کیفیت وریدی اجتماع خون ہے ۔ در اصل یہی وریدوںمیں سست دوران خون ہی اسکی سستی اور کاہلی کا ذمہ دار ہے ۔ یہ اجتماع خون مقامی سطح پر بھی ہوتا ہے ۔ جسکے باعث وریدیں پھول جاتی ہیں ، زخمی ہو جاتی ہیں ،انمیں گانٹھیں پڑ جاتی ہیں، درد کرتی ہیںاور متاثرہ جگہ ارغوانی رنگت اختیار کرلیتی ہے ۔ وریدوں کی یہ حالت خاص طور پر ویری کوز وینز کی شکل میں پنڈلیوں ۔ اور بواسیری مسوں کی شکل میں مقعد میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ رحم میں وریدی سوزش کے نتیجے میں بوجھ کا احساس ہوتا ہے ۔ مریضہ کو لیکوریا کی مزمن تکلیف ہو جاتی ہے جو کہ زرد ، گاڑھا اور لیسدار ہوتا ہے ۔
۴: اسی ناقص گردش خون کے ساتھ چھوٹی کمر میں درد ، سختی اور اکڑن کی تکلیف رہتی ہے۔
ایسی کیولس سست دوا ہے ۔ ا سکی علامات دھیرے دھیرے بڑہتی ہیں اور دھیرے دھیرے ہی شفائی اثرات نمودار ہوتے ہیں ۔
نظام ہضم کی خرابی کے ضمن میں مریض کی داستان کچھ یوں ہوتی ہے کہ کھانے کے بعد پیٹ بہت بھرا ہوا لگتا ہے ، اسکے ساتھ بے آرامی اور بیچینی محسوس ہوتی ہے ۔ بسا اوقات پیٹ میں جلندار درد ہونے لگتا ہے ۔یہ بھراﺅ اور بیچینی کا احساس اگلے کھانے تک چلتا ہے ۔ اسوقت تک مریض کی تکلیف میں کمی آچکی ہوتی ہے ۔ کھانے کے بعد پھر یہ تکلیف شروع ہو جاتی ہے ۔مزمن کیسوں میں معدے میں السرز بھی ہو جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں پیٹ میں یہ بہت بھرے ہونے کا احساس اور بے چینی قے کا باعث بنتی ہے ۔ کچھ مریضوں میں تھوڑی تھوڑی غذا کی قے ہوتی رہتی ہے جو کہ نہائت کھٹی ہوتی ہے ۔ کچھ مریضوں کو منہ بھر کر قے ہو جاتی ہے ۔ ہر دو صورتوں میں معدہ خالی ہو جانے پر مریض نہائت سکون محسوس کرتا ہے ۔( کھانے کے بعد قے ۔ فیرم ، فاسفورس ، آرسینیکم) ایسی کیولس کی ایک اور نمایاں علامت سینے میں جلن (HearT burn ) ہے ، اسکے ساتھ تیزابی ، گندے ، کھٹے اور بدمزہ ڈکار آتے ہیں ۔ ان ڈکاروں کے ساتھ کھٹی غذا حلق کو چڑہتی ہے ۔
ان علامات والے مریضوں کا آپ فزیکل معائنہ کریں یا انکی الٹرا ساﺅنڈ کی رپورٹ دیکھیں تو یقینی طور پر جگر کچھ بڑہا ہوا ملے گا ۔
ایک اور نمایاں ترین علامت آپکو کمر درد اور کمر میں سختی اور اکڑن کی صورت میں ملے گی۔ مریض بتاتا ہے کہ بیٹھنے پر اسکی کمر دکھنے لگتی ہے اور اتنی اکڑ جاتی ہے کہ اسکے لیے کرسی سے اٹھنا مشکل ہوتا ہے ۔وہ یکدم سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ وہ کمر کو پکڑیں گے بڑی مشکل سے سیدھے ہونگے اور کچھ چلنے کے بعد نارمل ہونگے ۔( بیٹھ کر اٹھنا مشکل ، سلفر ، پٹرولیم ، اگاریکس )بسا اوقات یہ کمر درد مسلسل رہنے لگتا ہے اور مریض کے لیے چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے ۔ یہ علامت اتنی کنفرم ہے کہ ہو میو پیتھس کا یہ کہنا ہے کہ بوا سیر یا لیکوریا جسکے ساتھ چھوٹی کمر میں درد اکڑن اور سختی کی علامت موجود ہو تو یہ ایسی کیولس کے انتخاب کے لیے کافی ہے ۔
مریض کی قوت ہضم سست اور کمزور ہوتی ہے اسے بھوک کم لگتی ہے ۔ لیکن پیاس ٹھیک ٹھاک لگتی ہے ۔ اکثر قبض رہتی ہے ۔اکثر مریض پر درد بادی بواسیر کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں ، مقعد میں لگتا ہے جیسے کھپچیاں ٹھنسی ہوئی ہیں ۔ پاخانے کے اخراج میں دقت ، مقعد میں جلن اور شدید درد ہوتا ہے ۔ ارغوانی رنگ کے پھولے ہوئے مسّے۔مقعد میں کھپچیوں کا احساس کالنسونیا میں بھی ملتا لیکن اتنا شدید نہیں۔ کالنسونیا میں قبض ایسی کیولس سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ ایسی کیولس میں زیادہ تر بادی بواسیر ہوتی ہے جبکہ کالنسونیا میںخونی۔اسکے علاوہ کمر درد کی علامت بھی کالنسونیا اور ایسی کیولس میں تفریق کر دیتی ہے۔ نائٹرک ایسڈ میں بھی مقعد میں تیز چبھن دار درد ہوتے ہیں لیکن انکی نوعیت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی شیشے کی کرچ چبھی ہوئی ہو یا باریک چیر پڑے ہوئے ہوں ، مریض پاخانے کے بعد گھنٹوں درد سے بیچین ہوکر ٹہلتا رہتا ہے ۔
ایسی کیولس کے مریض پیٹ پر دباﺅ اور کساﺅ برداشت نہیں کر سکے ۔ آزار بند ڈھیلا باندھتے ہیں ، پینٹ یا بیلٹ کا کساﺅ انہیں تکلیف دیتا ہے ۔ انکی سستی ، تھکن ، کمر درد ، صبح کے وقت نمایاں ہوتی ہے ، اٹھنے کے بعد اتنی سستی اور تھکن ہوتی ہے کہ وہ دوبارہ لیٹ جانا چاہتے ہیں۔ اگر دوپہر کا کھانا کھاکر لیٹ جائیں تو سستی تھکن کاہلی اور بوجھل پن کے علاوہ کھٹے ڈکار اور معدے کی بے آرامی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
یاد رہے کہ تجویز دوا کے لیے مجموعہ علامات پر انحصار کریں نہ کہ کسی ایک یا دو مخصوص علامات پر مثلاً دوران نیند یا سونے کے بعد اضافہ ، پیٹ پر دباﺅ اور کساﺅ سے حساسیت ، وریدی اجتماع خون ، ویری کوز وینز ، متاثرہ جگہ کی رنگت کا ارغوانی ہونا ، لیکسس کی مخصوص علامات میں سے ہیں ۔ لیکن دونوں ادویات کی ذہنی اور جذباتی علامات ایک دوسری کو جدا کرتی ہیں ۔ ایسی کیولس کے مریض ذہنی طور پر سست ، منتشر الخیال ہوتے ہیں جبکہ لیکسس کے مریض تیز ، شکی ، متجسس اور باتونی۔ اسی طرح ایسی کیولس کے ادھیڑ عمر مریضوں کی کیس ہسٹری میں یہ بات ملتی ہے کہ انکی صحت میں انحطاط آنے سے پہلے انہیں ریاحی دردوں کی تکلیف رہی تھی ۔ یہ درد آوارہ نوعیت کے تھے ۔ یہ تکلیف ٹھیک ہونے کے بعد سے نہ صحت رہی نہ معدہ و جگر ! آپ اسے سلفر کھلا دیتے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ، تو یہ قصور نہ دوا کا ہے نہ مریض کا بلکہ آپکا انتخاب ہی درست نہیں تھا ۔
( تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمٰن )
ایسی کیولس کے مریض افسردہ مزاج ، چڑ چڑے ہوتے ہیں ۔ دماغی انتشار کے باعث ان میں ذہنی یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔
سارے جسم میں سستی ، تھکن اور کمزوری کا احساس ۔ ایسے مریض میں چستی پھرتی نظر نہیں آتی ۔چھوٹی کمر اور کولہوں میں درد اکڑن اور سختی کے باعث مریضوں کے لیے اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا دشوار ہوتا ہے۔ یہی کیفیت ہمیں ان مریضوں میں دماغی اور جذباتی سطح پر ملتی ہے۔اسکی وجہ انکی وریدوں میں دوران خون کی سستی ہے ۔ خون سے وریدیں ہمیشہ پر رہتی ہیں ۔مندرجہ بالا علامات و کیفیات اکثرادھیڑ عمر اور بوڑہے افراد میں نمایاںطور پر پائی جاتی ہیں۔ مریض اپنی بیماری کا نقطہءآغاز معدے اور جگر کی خرابی بتاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اسنے زندگی بڑی چاق و چوبند گذاری ہے ۔ اسکا نظام ہضم بھی مثالی تھا ۔ بس بڑہاپے میں آکر اسکی صحت بری طرح گر گئی ہے ۔ ایسی کیولس کے انتخاب میں چنداصولی علامات خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہیں ۔
۱: ایسی کیولس کی علامات لیکسس کی مانند دوران نیند بڑہتی ہیں۔ جسمانی سستی ، کاہلی ، معدہ و امعا کی خرابی ، خصوصاً اسکا دماغ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے ۔ مریض جب سوکر اٹھتا ہے تو اسے اپنے حواس یکجا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ جاگنے پر حواس باختہ ہوتاہے اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاںہے۔اس سے ملتی جلتی کیفیت لائکو پوڈیم میں بھی پائی جاتی ہے خصوصاً بچوں میں بچے یکدم ڈر کر اٹھتے ہیں ،بلا وجہ چیختے چلاتے ہیں ، بد حواس دکھائی دیتے ہیں ، لگتا ہے کہ کسی کو نہیں پہچان رہے ۔ کچھ دیر بعد حواس میں آجاتے ہیں ۔
۲: دوسری کیفیت سستی ، کاہلی اور بوجھل پن کا احساس ہے ۔ مریض میں چستی اور پھرتی اور ترو تازگی نہیں ہوتی خصوصاً آرام کرنے کے بعد ۔ مریض چاہتا ہے کہ پھر لیٹ جائے ۔ اگر وہ ہمت کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اور کام کاج ، محنت مشقت میں لگ جاتا ہے تو دوران خون کی تیزی سے یہ سستی کاہلی چھٹ جاتی ہے۔
۳: تیسری عمومی کیفیت وریدی اجتماع خون ہے ۔ در اصل یہی وریدوںمیں سست دوران خون ہی اسکی سستی اور کاہلی کا ذمہ دار ہے ۔ یہ اجتماع خون مقامی سطح پر بھی ہوتا ہے ۔ جسکے باعث وریدیں پھول جاتی ہیں ، زخمی ہو جاتی ہیں ،انمیں گانٹھیں پڑ جاتی ہیں، درد کرتی ہیںاور متاثرہ جگہ ارغوانی رنگت اختیار کرلیتی ہے ۔ وریدوں کی یہ حالت خاص طور پر ویری کوز وینز کی شکل میں پنڈلیوں ۔ اور بواسیری مسوں کی شکل میں مقعد میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ رحم میں وریدی سوزش کے نتیجے میں بوجھ کا احساس ہوتا ہے ۔ مریضہ کو لیکوریا کی مزمن تکلیف ہو جاتی ہے جو کہ زرد ، گاڑھا اور لیسدار ہوتا ہے ۔
۴: اسی ناقص گردش خون کے ساتھ چھوٹی کمر میں درد ، سختی اور اکڑن کی تکلیف رہتی ہے۔
ایسی کیولس سست دوا ہے ۔ ا سکی علامات دھیرے دھیرے بڑہتی ہیں اور دھیرے دھیرے ہی شفائی اثرات نمودار ہوتے ہیں ۔
نظام ہضم کی خرابی کے ضمن میں مریض کی داستان کچھ یوں ہوتی ہے کہ کھانے کے بعد پیٹ بہت بھرا ہوا لگتا ہے ، اسکے ساتھ بے آرامی اور بیچینی محسوس ہوتی ہے ۔ بسا اوقات پیٹ میں جلندار درد ہونے لگتا ہے ۔یہ بھراﺅ اور بیچینی کا احساس اگلے کھانے تک چلتا ہے ۔ اسوقت تک مریض کی تکلیف میں کمی آچکی ہوتی ہے ۔ کھانے کے بعد پھر یہ تکلیف شروع ہو جاتی ہے ۔مزمن کیسوں میں معدے میں السرز بھی ہو جاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں پیٹ میں یہ بہت بھرے ہونے کا احساس اور بے چینی قے کا باعث بنتی ہے ۔ کچھ مریضوں میں تھوڑی تھوڑی غذا کی قے ہوتی رہتی ہے جو کہ نہائت کھٹی ہوتی ہے ۔ کچھ مریضوں کو منہ بھر کر قے ہو جاتی ہے ۔ ہر دو صورتوں میں معدہ خالی ہو جانے پر مریض نہائت سکون محسوس کرتا ہے ۔( کھانے کے بعد قے ۔ فیرم ، فاسفورس ، آرسینیکم) ایسی کیولس کی ایک اور نمایاں علامت سینے میں جلن (HearT burn ) ہے ، اسکے ساتھ تیزابی ، گندے ، کھٹے اور بدمزہ ڈکار آتے ہیں ۔ ان ڈکاروں کے ساتھ کھٹی غذا حلق کو چڑہتی ہے ۔
ان علامات والے مریضوں کا آپ فزیکل معائنہ کریں یا انکی الٹرا ساﺅنڈ کی رپورٹ دیکھیں تو یقینی طور پر جگر کچھ بڑہا ہوا ملے گا ۔
ایک اور نمایاں ترین علامت آپکو کمر درد اور کمر میں سختی اور اکڑن کی صورت میں ملے گی۔ مریض بتاتا ہے کہ بیٹھنے پر اسکی کمر دکھنے لگتی ہے اور اتنی اکڑ جاتی ہے کہ اسکے لیے کرسی سے اٹھنا مشکل ہوتا ہے ۔وہ یکدم سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ وہ کمر کو پکڑیں گے بڑی مشکل سے سیدھے ہونگے اور کچھ چلنے کے بعد نارمل ہونگے ۔( بیٹھ کر اٹھنا مشکل ، سلفر ، پٹرولیم ، اگاریکس )بسا اوقات یہ کمر درد مسلسل رہنے لگتا ہے اور مریض کے لیے چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے ۔ یہ علامت اتنی کنفرم ہے کہ ہو میو پیتھس کا یہ کہنا ہے کہ بوا سیر یا لیکوریا جسکے ساتھ چھوٹی کمر میں درد اکڑن اور سختی کی علامت موجود ہو تو یہ ایسی کیولس کے انتخاب کے لیے کافی ہے ۔
مریض کی قوت ہضم سست اور کمزور ہوتی ہے اسے بھوک کم لگتی ہے ۔ لیکن پیاس ٹھیک ٹھاک لگتی ہے ۔ اکثر قبض رہتی ہے ۔اکثر مریض پر درد بادی بواسیر کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں ، مقعد میں لگتا ہے جیسے کھپچیاں ٹھنسی ہوئی ہیں ۔ پاخانے کے اخراج میں دقت ، مقعد میں جلن اور شدید درد ہوتا ہے ۔ ارغوانی رنگ کے پھولے ہوئے مسّے۔مقعد میں کھپچیوں کا احساس کالنسونیا میں بھی ملتا لیکن اتنا شدید نہیں۔ کالنسونیا میں قبض ایسی کیولس سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ ایسی کیولس میں زیادہ تر بادی بواسیر ہوتی ہے جبکہ کالنسونیا میںخونی۔اسکے علاوہ کمر درد کی علامت بھی کالنسونیا اور ایسی کیولس میں تفریق کر دیتی ہے۔ نائٹرک ایسڈ میں بھی مقعد میں تیز چبھن دار درد ہوتے ہیں لیکن انکی نوعیت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی شیشے کی کرچ چبھی ہوئی ہو یا باریک چیر پڑے ہوئے ہوں ، مریض پاخانے کے بعد گھنٹوں درد سے بیچین ہوکر ٹہلتا رہتا ہے ۔
ایسی کیولس کے مریض پیٹ پر دباﺅ اور کساﺅ برداشت نہیں کر سکے ۔ آزار بند ڈھیلا باندھتے ہیں ، پینٹ یا بیلٹ کا کساﺅ انہیں تکلیف دیتا ہے ۔ انکی سستی ، تھکن ، کمر درد ، صبح کے وقت نمایاں ہوتی ہے ، اٹھنے کے بعد اتنی سستی اور تھکن ہوتی ہے کہ وہ دوبارہ لیٹ جانا چاہتے ہیں۔ اگر دوپہر کا کھانا کھاکر لیٹ جائیں تو سستی تھکن کاہلی اور بوجھل پن کے علاوہ کھٹے ڈکار اور معدے کی بے آرامی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
یاد رہے کہ تجویز دوا کے لیے مجموعہ علامات پر انحصار کریں نہ کہ کسی ایک یا دو مخصوص علامات پر مثلاً دوران نیند یا سونے کے بعد اضافہ ، پیٹ پر دباﺅ اور کساﺅ سے حساسیت ، وریدی اجتماع خون ، ویری کوز وینز ، متاثرہ جگہ کی رنگت کا ارغوانی ہونا ، لیکسس کی مخصوص علامات میں سے ہیں ۔ لیکن دونوں ادویات کی ذہنی اور جذباتی علامات ایک دوسری کو جدا کرتی ہیں ۔ ایسی کیولس کے مریض ذہنی طور پر سست ، منتشر الخیال ہوتے ہیں جبکہ لیکسس کے مریض تیز ، شکی ، متجسس اور باتونی۔ اسی طرح ایسی کیولس کے ادھیڑ عمر مریضوں کی کیس ہسٹری میں یہ بات ملتی ہے کہ انکی صحت میں انحطاط آنے سے پہلے انہیں ریاحی دردوں کی تکلیف رہی تھی ۔ یہ درد آوارہ نوعیت کے تھے ۔ یہ تکلیف ٹھیک ہونے کے بعد سے نہ صحت رہی نہ معدہ و جگر ! آپ اسے سلفر کھلا دیتے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ، تو یہ قصور نہ دوا کا ہے نہ مریض کا بلکہ آپکا انتخاب ہی درست نہیں تھا ۔
No comments:
Post a Comment