Showing posts with label ہومیو پیتھی. Show all posts
Showing posts with label ہومیو پیتھی. Show all posts

Tuesday, 21 March 2017

جنرل پریکٹس۔2



جنرل پریکٹس یعنی روز مرہ کے استعمال کی ادویات(2)
ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
گلے کی دکھن :
بیلا ڈونا : حلق خشک ، پر درد ،سرخ ، گلا تنگ محسوس ہو ، خراش ، پانی پینے سے اضافہ
ڈروسرا : آواز بیٹھی ہوئی ، گلا کھردرا ، خشک ، ، رال زیادہ پیدا ہو ، لیٹنے سے اضافہ ۔
لیکسس: گلے میں بائیں جانب تکلیف ، گلے کے گرد تنگ کالر ، مفلر برداشت نہ ہو ، اس سے سانس میں گھٹن محسوس ہو ، نگلنے سے دکھن زیادہ ۔
لائکو پوڈیم : داہنی جانب دکھن ، یا تکلیف دائیں جانب شروع ہو کر بائیں جانب بڑہے ، گرم اشیاءپینے سے ریلیف محسوس ہو ۔
مرکیوریس : پسینے اور سانس سے بدبو آئے ، رال زیادہ بنے اور شدید پیاس :
فائٹولکا : گلا سیاہی مائل سرخ ، کھردرا محسوس ہو ، نگلنے سے درد ۔ سارے جسم میں دکھن۔
نزلہ زکام ٹھنڈ لگ جانا:
ایکونائٹ: خشک سرد موسم میں اچانک شدید نزلہ زکام بخار وغیرہ۔
ایلیم سیپا؛چھینکیں ، زکام ناک سے جلندار اور آنکھوںسے سادہ پانی کا اخراج ، آنکھیں سرخ، گرم بند جگہ پر اضافہ۔
آرسینیکم:چھینکیں ، زکام ۔ آنکھوںمیں جلن ، سردی ، نقاہت اور بے چینی۔
بیلا ڈونا: جسم گرم محسوس ہو ، چہرہ اور آنکھیںسرخ ، اچانک زکام کا حملہ ۔ شور اور روشنی سے حساسیت۔
برائیاونیا :سردی ، نزلہ زکام سر اور جسم میں درد ، سستی خشک کھانسی ، سینے میں جکڑن، مریض چڑچڑا ، حرکت سے نفرت۔
یوپیٹوریم پرف: زکام کے ساتھ سارے اعضاءاور مسلز میں درد۔
جیلسیمیم: سستی غنودگی اور تھکن ، سر میں ہلکا ہلکا درداور بھاری پن، اعضاءکا کانپنا،
خصوصاٍ جب موسم گرما میں ٹھنڈ لگنے سے نزلہ زکام ہو جائے۔
کالی سلف :
چھاتی میںؓ بلغم گڑ گڑائے، زرد رنگ کی بلغم
مرک وائیوس: چھینکیں ، چھیل دینے والی رطوبت ، منہ میں چھالے ، پسینہ اور سانس بدبو دار۔

کلکیریا فاس۔1


کلکیریا فاس ۔پہلی قسط
ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
کلکیریا فاس کے مریض کلکیریا کارب کی مانند سفید رنگت کے بجائے کسی قدر میلی سفید یا گہری گندمی رنگت والے ہوتے ہیں ۔جوانوں خصوصاً لڑکیوںکے چہرے سرخ سرخ ، پیلی پیپ والے کیلوں سے بھر جاتے ہیں ۔ اپنی حرکات و سکنات ، ظاہری شکل و صورت اور ذہنی کیفیات سے مریض بیمار طبع لگتا ہے ۔ کام کاج سے جی چراتا ہے ۔ تھکن کے مارے لیٹ جانا چاہتا ہے ۔ سرد مزاجی بھی کلکیریا کی نمایاں خصوصیت ہے ۔ ذرا سی ٹھنڈ سے مریض کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں ۔ جسمانی کمزوری کے باعث بچے چلنا دیر سے سیکھتے ہیں ۔ یا دبلے پتلے اور کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ہڈیوں کی ناقص نشو و نما ۔ ہڈیاں پتلی اور کمزور اور آسانی سے ٹوٹ جانے والی ہوتی ہیں سرد مزاجی کے باوجود مریض کو کمرے کی گرمی اچھی نہیں لگتی ۔
وجوہات ۔ اسباب : causation: نشو و نما کی تیزی ، بوجھ اٹھانا ، سیڑھیاں چڑہنا ، تعلیم و تعلم کا بوجھ ، جنسی بے اعتدالی ، یا کثرت جماع ، غم و صدمات ، ناکامئی عشق و محبت ۔ برے خبر کے بد اثرات ۔ فسچولا کے آپریشن کے بعد کی تکالیف ، اور بھیگ جانا ۔

Sunday, 19 March 2017

لائکوپوڈیم - پارٹ1





 لائکو پوڈیم (پارٹ۔1)
تحریر و ترتیب :ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
چند لقمے کھاتے ہی گلے تک بھر جانے کا احساس۔ کھانے کے بعد پیٹ ہوا سے بھر جاتا ہے، ڈکار آنے سے وقتی آرام۔ کھانے کے فوراً بعد صفراوی قے، قہوے کی تلچھٹ یا کالے رنگ کی سیاہی جیسی قے،۔پتے کی تکالیف، پتھری کو نرم کرکے گھلا دیتی ہے۔ لائکو کو ہمیشہ ڈکار آتے رہتے ہیں، عموماً تیز اور ترش حلق میں جلن پیدا کرنے والے ڈکار۔جب پیٹ میں اس طرح ہوا بھر جاتی ہے تو مریض کے جسم میں عصبیت بڑھ جاتی ہے، اور وہ شور و غل برداشت نہیں کر سکتا۔ کاغذ کی کڑ کڑاہٹ، گھنٹہ بجنے یا دروازہ بند ہونے کی آواز سے وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اور غشی آجاتی ہے جیسا کہ انٹم کروڈ، بوریکس اور نیٹرم میور میں ہوتا ہے۔ اس میں ہر بات ناگوار گذرتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر ناراضگی اور تکلیف ہوتی ہے۔ ذہنی طور پر مریض تھکا ماندہ، ذہنی تکان، پرانی تکان، بھلکڑ، کوئی نیا کام سر انجام سر انجام دینے سے پہلو تہی کرنا، کوئی نیا پیشہ اختیار کرنے سے جھجک، اپنے ہی کام سے نفرت۔ ڈرتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے، جیسے وہ کچھ بھول گیا ہے۔ بھیڑ میں جانے سے ہمیشہ ڈرتا ہے۔ مگر اسکے باوجود تنہائی سے بھی ڈرتا ہے۔ اکثر پیشہ ور لوگ مثلاً وکیل اور وزیر وغیرہ مجمع میں آنے سے ڈرتے ہیں اس میں وہ اپنی کو تاہی محسوس کرتے ہیں اپنا کام سرت انجام دینے کی نا اہلیت محسوس کرتے ہیں۔ خواہ اسے وہ برسوں سے ہی سر انجام دیتے کیوں نہ آرہے ہون ایک وکیل عدالت مین پیش ہونے سے ہی کتراتا ہے وہ وقت پر عدالت میں پیش ہونے سے ٹال مٹول کرے گا جان بوجھ کر وقت ٹالنے کی کو شش کرے گا تا وقتیکہ اسے مجبوراً جانا نہ پڑے۔ اسے اندیشہ رہتا ہے کہ وہ اپنے فرائض بخوبی سر انجام نہیں دے پائے گا۔ بھول جائے گا، مگر جب وہ حقیقی طور پر عدالت میں پہنچ جاتا ہے تو اپنے کام کو بڑی کامیابی اور خوبی سے سر انجام دیتا ہے۔ یہ علامت سلیشیا میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ خوف اور اندیشہ جتنا ان دو ادویات میں پایا جاتا ہے اتنا کسی دوا میں نہیں ملتا۔ مریض بیٹھا بیٹھا کڑہتا رہتا ہے۔اکثر احباب سے مل بیٹھنے سے احتراز کرتا ہے۔ مگر اسکے باوجود وہ تنہائی سے بھی ڈرتا ہے۔ آدمیون سے بھی ڈرتا ہے اور تنہائے سے بھی چڑ چڑا پن اور اداسی۔خواتین میں بھی یہ علامت ملتی ہے، انہی لوگون میں خوش رہتی ہے جو اکثر اسکے آس پاس رہتے ہیں۔ نئے افراد خواہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ان سے بھی کتراتی ہے۔ تنہائی بھی پسند نہیں، چاہتی ہے کہ کچھ لوگ آس پاس رہیں لیکن اسکے پاس جمگھٹا نہ ہو،وہ یہ بھی پسند نہیں کرتی کہ کوئی اس سے بات چیت کرے یا اسے کوئی کام کہے۔ محنت کرنا پسند نہیں کرتی تاہم کام کاج سے طبیعت بہتر رہتی ہے، اکثر کم گو اور تنہا رہنا پسند کرتی ہے۔ لائکو بھرے گھر کے کسی کمرے میں اکیلا پسند کرتے ہیں۔
جذباتی، حساس، شکر گذاری سے دل بھر آتا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں انسان کے زندہ رہنے کی خواہش کو مار دیتی ہے، خود اعتمادی کی کمی، انسانوں سے نفرت اپنے بال بچوں سے بیزاری، شکی مزاج، عیب جو، دوسروں کی غلطیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔ کمزور اور دبلے پتلے اکثر سر درد میں مبتلا رہنے والے لڑکے، خصوصاً سردی لگنے سے سر میں اجتماؑ خون سے سر درد۔ د بلا پن، خشک کھانسی اور دبلا پن، نمونیہ اور برونکائٹس کے بعد
مسلسل خشک کھانسی اور دبلا پن، زکام لگنے کا رجحان۔ (جاری ہے)

لائکوپوڈیم -پارٹ2



 
لائکو پوڈیم ۔ پارٹ2
بوڑہے اور تھکے ماندے افراد، تمام جسمانی افعال میں کمزوری اور سستی۔ بیماری ختم ہو جانے کے باوجود کمزوری نہیں جاتی بلکہ بڑہتی جاتی ہے۔ ۔ نہائت تکلیف دہ قبض، کئی کئی دن تک پاخانے کی حاجت نہیں ہوتی گو کہ امعائے مستقیم فضلے سے بھری رہتی ہے مگر حاجت نہیں ہو تہ انتڑیون کی بے حسی اوربے حرکتی، سخت، چھوٹے چھوٹے سدے۔ پاخانے کے بعد شدید کمزوری۔ مثانے میں کمزوری، پیشاب زور لگانے سے اور آہستہ آہستہ اترتا ہے، پیشاب گدلا اور سرخ ریت کی آمیزش لیے ہوئے۔
لائکو پودیم ان ادویات میں اہم ترین دوا ہے جنمیں رات کو بکثرت پیشاب آتا ہے۔ حالانکہ دن میں پیشاب کی حاجت معمول پر رہتی ہے۔
نامردی کی ادویات میں سے اہم ترین دوا ہے۔ لائکو پوڈیم رحم میں خشکی پیدا کرتا ہے اور اسے دور بھی کرتا ہے۔ خشکی کی وجہ سے مباشرت تکلیف دہ، مباشرت کے وقت اور بعد میں رحم میں جلن۔ اسمیں ماہواری کی گڑ بڑ بھی پائی جاتی ہے، کئی کئی ماہ بندش حیض، جھریاں پڑ جاتی ہیں اور صحت گرنے لگتی ہے، بدن پیلا اور کمزور، ظاہر ہوتا ہے کہ ماہواری کے لیے اسکے بدن میں طاقت ہی نہیں یہ ان نو جوان لڑکیوں کے لیے مفید ہے جنہیں بالغ ہونے پر بھی ماہواری نہیں آتی۔ چھاتیاں نہیں بڑہتیں، خصیۃ الرحم اپنا کام سر انجام نہیں دیتے یعنی بلوغت کے آثار نضر نہیں آتے۔ اگر علامات موافق ہوں تو نسوانیت بڑہنے لگے گی اسمیں اعضاء کی نشوو نما کی حیرت انگیز صلاحیت پائی جاتی ہے۔ اور اسکی اس باری میں کلکیریا اور فاسفورس سے زبر دست مشابہت ہے، رحم کی راہ سے ہوا خارج ہوتی ہے۔
بڑہاپے میں غیر معمولی کمزور اور صحت کی تباہی ساٹھ سال کا بوڑہا اسی سال کا نظر آئے۔