رسٹاکس۔ تجربات و مشاہدات
تحریر و ترتیب: ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمٰن (پارٹ ۔ 1)
( زیر نظر مضمون میں رسٹاکس کی صرف انہی خصوصیات اور علامات کا ذکر ہے، جنہیں میرے کلینک پر مختلف مریضوں، میں تجویز دوا کے لیے بنیاد بنایا گیا اورجنہیں میں نے اپنی پریکٹس میں بارہا آزمایا، اور درست پایا)
رسٹاکس ہومیو پیتھک پریکٹس میں روز مرہ کی دوا ہے۔ اپنی منفرد اور نمایاں علامات کے تحت بے شمار امراض و کیفیات کو درست کرنے میں معجزانہ اثرات کی حامل ہے۔ہر جنس و عمر کے
مریض اس سے یکساں مفید ہوتے ہیں ۔اسکی نمایاں ترین خصوصیت اعضا ء جسم میں بے کل اور بے قرارار کردینے والی اکڑن اور سختی کی کیفیت ہے جسے حرکت سے وقتی افاقہ ہوتا ہے۔مریض اس عارضی ریلیف کے حصول کے لیے اعضائے جسم کو کھینچتا تانتا اور حرکت دیتا رہتا ہے۔بستر پر ہو تو کروٹیں بدلتا رہتا ہے اسے کسی پہلو قرار نصیب نہیں ہوتا۔
رسٹاکس کی اسی نمایا ں خصوصیت سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے ، اسے عضلات، پٹھوں، جوڑوں اور دیگر اعضاء جسم کی متعدد قسم کی تکا لیف کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
٭ ایک مریض جوکہ عرصہ دراز سے بائی کی دردوں میں مبتلا تھا ، اسے اپنے جسم کے تمام اعضاء اکڑے ہوئے اور سخت محسوس ہوتے تھے ، خصوصاً گردن، شانوں،بازؤں اور ٹانگوں اور جوڑوں میں دردیں نمایاں تھیں، اسکی یہ تکلیف رات کے وقت، آرام کی حالت میں اور سردی سے بڑھ جاتی تھی۔ ان دردوں اور اعضاء کی اکڑن اور سختی سے نجأت پانے کے لیے مریض اپنے اعضاء جسم کو کھینچتا، تانتا اور مروڑتا رہتا تھا جس سے اسے وقتی ریلیف ملتا تھا۔ اسکے لیے رسٹاکس200 تجویز کی گئی ، چند ہی دنوں میں اسکی تمام تکلیف
رفع ہو گئی۔
٭ ایک مریض جو کہ ملیریا کے بخار میں مبتلا تھا، ملیریا کی معلوم علامات کے علاوہ مریض کی عمومی کیفیت یہ تھی کہ اسے کسی کروٹ چین نہیں تھا، کبھی ایک کروٹ لیٹتا تو کبھی دوسری کروٹ
کبھی ٹانگیں سمیٹتا تو کبھی پھیلاتا ، کبھی بازؤوں کو کھینچتا تانتا نظر آتا۔ اس بیقراری کی وجہ اسنے یہ بتائی کہ اسکے تمام اعضاء، پر درد، اکڑے ہوئے اور سخت محسوس ہوتے ہیں
یہ اکڑن اور سختی اسے حرکت پر مجبور کرتی ہے جس سے وقتی ریلیف ملتا ہے۔ اسکے لیے رسٹاکس10 ایم تجویز کی گئی ، اگلی صبح بخار کا نام و نشان نہ رہا۔
وزن اٹھانے سے یاجسم کے کسی حصے پر غلط زاویے سے کھنچاؤ تناؤ کے باعث بل پڑ جائے ، تکیے کی غلط پوزیشن سے گردن میں بل پڑجائے، کسی حصے میں موچ آجائے اگر متاثرہ حصے میں بیقرار کردینے والی اکڑن اور سختی موجود ہو، جسے حرکت سے وقتی ریلیف ملے تو رسٹاکس یقینی دوا ہوتی ہے۔
٭ایک مریضہ موسم برسات میں اپنی کچی اور ٹپکتی ہوئی چھت کی درستگی کے لیے اوپر چڑھی، اچانک چھت کا ایک بوسیدہ اور کرم خوردہ بالا ٹوٹ گیا اور چھت میں سوراخ ہو گیا مریضہ اس سوراخ میں سے نیچے گری۔ گرتے ہوئے اسنے بے اختیار سوراخ کے کناروں کو پکڑ لیا، یوں وہ نیچے زمیں پر گرنے سے تو بچ گئی لیکن چھت کے ساتھ لٹک گئی۔ اسکی چیخ و پکار سن کر اسے
۵۔ ۰۱ منٹ بعد بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ۔ فضا میں معلق رہنے کے باعث اسکے دونوں بازو شل ہو چکے تھے، کچھ علاج معالجے اور مالش وغیرہ سے بازؤں کی حس و حرکت تو واپس آگئی لیکن مریضہ نہ بازو اوپر اٹھا سکتی تھی، نہ انہیں آزادانہ گھما سکتی تھی، ان میں شدید درد ہوتا تھا اور بازو کمزور، اکڑے ہوئے اور کھنچے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ اس حادثے کے تقریباًدو سال بعد اسنے ہو میو پیتھک سے رجوع کیا، مسلز اور پٹھوں پر نا مناسب کھنچاؤ پڑنے کی بنیاد پر اسکے لیے رسٹاکس30 تجویز کیا گیا، صرف دو ہفتوں میں اسکی مہینوں پرانی
تکلیف یوں دور ہو ئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
No comments:
Post a Comment