انا کارڈیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔( پارٹ -2 )
تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے اسے نہ خود پر بھروسہ رہتا ہے
نہ وہ دوسروں پر اعتماد کرتا ہے ۔ حد درجے کے بد گمان اور منفی سوچ کے حامل ۔ ذہنی
کمزوری جتنی شدید ہوتی ہے اسی درجے کی علامات اسمیں پائی جاتی ہیں۔ ہمیشہ ذہنی اور
جذباتی لحاظ سے تذبذب اور گو مگو کی کیفیت میں رہتے ہیں ۔ وہ مختلف معاملات پر پریشان
ہوتے رہیں گے لیکن اپنا ذہن نہیں بنا سکتے ۔ ان میں کسی حتمی فیصلے پر پہنچنا آسان
نہیں ہوتا ۔ کریں نہ کریں ؟ ایسا کریں یا ویسا کریں ! فیصلے کے ہر موقع پر انکا ذہن
اسی کشمکش میں پھنس جاتا ہے ۔ بسا اوقات اسی ذہنی کشمکش میں وقت انکے ہاتھ سے نکل جاتا
ہے اور وہ سخت نقصان اٹھاتے ہیں ۔ یہ پنڈولم کی طرح ادھر سے ادھر ڈولتے رہتے ہیں ۔
ایسی ہی فکر ، پریشانی کے باعث ان میں غصہ ، برہمی اور جھنجلاہٹ پیدا ہوتی ہے ۔ انکا
نظام ہضم خراب ہو جاتا ہے ۔ اکثر معدہ کی خرابیاں جو پہلے پہلے اعصابی نوعیت کی ہوتی
ہیں پائلورک یا ڈیو ڈینل کے السر میں تبدیل ہو جاتی ہیں،انا کارڈیم کے السرز خالصتاً
فکر ، تشویش اور پریشانی کی پیدا وار ہوتے ہیں۔ انکی فکر پریشانی کی سب سے اہم وجہ
ان میں قوت فیصلہ کا فقدان ہوتا ہے ۔ ایک خاتون خاوند کا ظلم و ستم سہتی رہے گی ، کڑہتی
رہے گی ، اور سوچتی رہے گی کہ وہ نباہ کرے یا چھوڑ دے ۔ خاوند کے ظلم ستم اور بے اعتنائی
اسے بھاگنے پر اکساتی ہے تو مستقبل کے اندیشے اور واہمے اسے بھاگنے سے روکتے ہیں ،
وہ کیا کرے کیا نہ کرے اسی کشمکش میں اسکے معدے میں السر ہو جاتا ہے ۔اسمیں آپکو تشدد
پسندی ، گالم گلوچ ، بد دعائیں دینا کو سنے دینا ساری علا مات آب و تاب سے نظر آئیں
گی ۔
انا کارڈیم کی تیسری اہم علامت
یہ ہے کے اسکی ساری حسیں گڑ بڑ یا کند ہو جاتی ہیں۔ زیادہ تر کند ہونا پایا جاتا ہے
، بسا اوقات انکی سونگھنے کی حس میں گڑ بڑ نظر آتی ہے ، مریض کو ناک میںبڑی گندی بو
محسوس ہوتی ہے ۔ انا کارڈیم
کے مریض اپنے گردو پیش سے زیادہ حساس نہیں ہوتے ۔ وہ چیزوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے
۔ گرد و پیش کی بے ترتیبی ، بد سلیقگی انہیں بالکل پریشان نہیں کرتے ۔ (نیٹرم میور،آر
سینک اور نکس کے بر عکس ) اگر آپ انا کارڈیم کے ماحول کو دیکھیں تو آپ کو ہر چیز عدم
توجہ کا شکار ملے گی انا کارڈیم انکا نوتس ہی نہیں لیتا ، واضح تضاد دیکھنا ہو تو نیٹرم
میور کو دیکھیں ہر چیز میں آپکو ایک ترتیب اور سلیقہ نظر آئے گا حتٰی کہ عادات و اطوار
میں بھی ۔ آرسینک کو تو بے ترتیبی ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے ۔نکس خاصے وضعدار
،نفاست پسند اور رکھ رکھاﺅ
کے قائل ہوتے ہیں ۔
اب کچھ ذکر اہم جسمانی علامات کا ۔معدے کی خرابی میں مبتلا
اکثر مریض شکائت کرتے ہیںکہ اچانک انکے منہ میں رال زیادہ پیدا ہونے لگتی ہے ۔ بے تحاشا
رال ، مریض تھوک تھوک کر تنگ آجاتا ہے کچھ دیر بعد یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے ۔ ۔ مریض
کی سانسیں کسی حد تک بدبو دار ہوتی ہیں ۔ پیاس نارمل ہوتی ہے ، ٹھنڈی غذا کھانے سے
اور ٹھنڈے مشروبات پینے سے معدے میں درد ہونے لگتا ہے ۔ معدے کے مریض کسی قسم کا سوپ پینا بھی برداشت نہیں
کرتے اس سے انکے سینے میں جلن ہونے لگتی ہے ۔معدے کی خرابیوںمیں مبتلا مریضوںمیں ایک
علامت اور ملتی ہے وہ ہے متلی ۔ یہ متلی صبح اٹھتے ہی ہونے لگتی ہے ۔ کچھ کھا پی لینے
سے افاقہ ہو جاتا ہے ، پیٹ خالی ہونے پر پھر متلی ہونے لگتی ہے۔ پیٹ میں بے آرامی اور
بیچینی کی بجائے گڑ گڑاہٹ ہوتی رہتی ہے ۔ ایپی گسٹیرم میں ڈاٹ لگے ہونے کا احساس ہوتا
ہے جو گڑ گڑاہٹ شروع ہونے پر ختم ہو جاتا ہے ۔
کھانے سے معدے کی تکالیف میں
افاقہ ۔ یہ انا کارڈیم کی رہنما علامت ہے ۔ اسکی تفصیل بھی جان لیجیے ۔ یہ ریلیف کھانے
کے بعد ایک دو گھنٹے کے لیے رہتا ہے جونہی معدہ خالی ہوتا ہے تکلیف شروع ہو جاتی ہے
خصوصاً السرز کے درد میں یہ کیفیت نمایاں طور پر موجود ہوتی ہے ۔
پریگننسی کے دوران متلی اور
قے جسے کچھ کھانے پینے سے آرام آئے انا کارڈیم سے شفا یاب ہو جاتی ہے ۔( جاری ہے)

No comments:
Post a Comment