Sunday, 19 March 2017

میگ کارب - پارٹ-1

میگ کارب ۔ (پارٹ ۔1 )
تحریر و ترتیب ڈاکٹر سید حفیظ الرحمان
میگ کارب کے چہرے پر مستقل بے چینی، بے قراری، عدم اطمینان، ایک قسم کی اذیت اور کوفت کا تاثر نظر آتا ہے جو کہ اسکی اندرونی ذہنی اور جذباتی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ میگ کارب چڑچڑا، سڑیل اور کھردرا ہوتا ہے۔میگ کارب بچے کمزور اور ناتواں ہوتے ہیں۔ پیٹ بڑہے ہوئے، ہڈیاں کمزور، نشو و نما سست۔ دانت نکالنے میں تاخیر، سر پر بکثرت پسینہ آنا، سرد مزاجی،بآسانی ٹھنڈ لگ جانا، دودھ کا موافق نہ ہونا، دودھ پیتے ہی پیٹ میں درد، مروڑ اور دست، نمایاں علامات ہیں۔ یہ ایسی علامات ہیں جنکے باعث کلکیریا، کلکیریا فاس، سلیشیا وغیرہ کا مغالطہ یقینی بات ہے، اسلیے یہ عقلی منطقی اور اصولی بات ہے کہ ادویات اور علامات کا مکمل تجزیہ کیا جائے اور دوا کا انتخاب مجموعی علامات
کی بنیاد پر کیا جائے۔ مجموعی علامات تین سطحوں پر ملتی ہیں جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطحیں۔ کرانک کیسوں میں کسی ایک سطح کو بھی نظر انداز کرنے کا مطلب ہے کیس کو بگاڑنا، انڈیکیٹرز کو ختم کر دینا اور مریض کو لا علاج کر دینا، جیسا کہ آج کل اکثر ہومیو پیتھ کرتے ہیں۔اسی لیے خلط ملط علامات کی حامل ادویات کا مطالعہ بڑی احتیاط سے کرنا چاہیے۔
ماہرین ہو میو پیتھی کا کہنا ہے کہ ذہنی اور جذباتی سطح پر میگ میور بیرونی اثرات سے ایک خاص قسم کی حساسیت رکھتی ہے، اور اسکے اثرات براہ راست جگر کو متاثر کرتے ہیں۔ یعنی جگر اسکا ویک پوائنٹ ہے۔۔ مثلاً بچہ اگر ایسے ماں باپ کا ہے جن میں ہمیشہ لڑائی جھگڑا رہتا ہے تو یقینی طور پر اسکا جگر متاثر ہوگا اور سے یرقان ہو جائے گا۔جگر کا اہم ترین فریضہ صفرا پیدا کرنا اور غذا کو ریگو لیٹ کرنا ہے۔ یاد رہے کہ جب انتڑیوں میں صفرا کی مناسب مقدار نہیں پہنچتی تو قبض رہنے لگتی ہے اور غذا کے ہضم و جذب ہونے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مریض میں حرارت غریزی کم ہو جاتی ہے۔ جگر جسم میں موجود تمام غدود کا مرکز ہے، جگر کی خرابیوں کے باعث جسم کے تمام غدود متاثر ہوتے ہیں۔
لڑائی جھگڑے، فتنہ فساد سے حد درجہ کی کوفت، اذیت اور حساسیت، سرد مزاجی اور مخصوص قبض،نتیجتاً جگر کی خرابیاں میگ میور کا امتیازی نشان ہے۔ چنانچہ بچپن کے مرحلے میں خصوصی علامات یوں ہونگی،بچہ کمزور، پیلا پھٹک، خون کی نمایاں کمی، ہڈیاں کمزور، رکٹس کی جانب رجحان، سر پر بآسانی پسینہ آنا، ٹھنڈ لگنے کا رجحان ، دودھ موافق نہیں پڑتا، دودھ پینے سے پیٹ میں درد اور اسہال، اکثر و بیشتر قبض رہتی ہے، بسا اوقات کئی کئی دن پاخانہ نہیں آتا، جب پاخانہ آتا ہے تو بہت زور لگا کے خارج کرنا پڑتا ہے، پاخانہ چھوتے چھوٹے سدوں پر مشتمل ہوتا ہے جو مقعد سے نکلتے ہی بکھر جاتے ہیں، بسا اوقات زور لگانے اور پاخانہ سخت ہونے کے باعث مقعد پھٹ جاتی ہے اور خون رستا ہے۔ لڑائی جھگڑا، بحث مباحثہ اور فتنہ فساد یہ وہ بنیادی عناصر ہیں جو میگ میور کی شخصیت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ میگ میور ایسے معاملات سے حد درجہ حساس ہوتے ہیں ، تو تکار کے شور سے ہی انہیں کوفت ہوتی ہے، وہ ہر صورت ایسے معاملات سے بچنا چاہتے ہیں، اورمفاہمت کی راہ اختیار کرتے ہیں لیکن بچ نہیں پاتے۔ میگ میور کی علامات زیادہ ترخواتین میں ملتی ہیں۔ میگ میور بچیاں جب ایسے ماحول میں بلوغت کو پہنچتی ہیں تو اکثر ہسٹیریااور دقت حیض میں مبتلا ہو جاتی ہیں، حیض بکثرت اور پر درد ہوتے ہیں، خون سیاہ لوتھڑے دار، رحم میں اینٹھن اور درد جو نیچے رانوں تک پھیلتا ہے، یا پھر دوران حیض کمر اور رانوں میں شدید درد، حیض کی خاص بات یہ ہے کہ اسکا فلو رات کو زیادہ ہوتا ہے۔ یہ درد حیض بسا اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ مریضہ کو تشنج آجاتا ہے ۔ یہ علامات خاصی کنفیوز کرنے والی ہیں دیگر ادویات سے انکی تفریق اتنی آسان نہیں جب تک کہ آپ مریضہ کے اندر نہ جھانکیں، اسکی شخصیت کو اچھی طرح پہچان نہ لیں۔
اب اہم علامات یوں ہوئیں ، ہسٹریائی مزاج ، سرد مزاجی پھر بھی کھلی ہوا کی خواہش ، حیض کی مندرجہ بالا علامات ، تکالیف کا رات کو بڑہنا، مزمن قبض امن پسندی۔
اب اس لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے بد قسمتی سے اسے سسرال میں بھی افرا تفری ہے، فتنہ فساد ہے، آٹا کون گوندھے، روٹیاں کون پکائے، کپڑے کون دھوئے، گھر کی صفائی کون کرے دیگر ذمہ داریاں کون سنبھالے وغیرہ وغیرہ۔ نئے افراد، نئے لوگ، متضاد رویے، جا و بے جا تنقید، اسے سب سے بنانی ہے،بہت کچھ برداشت کرنا ہے جو بڑا مشکل کام ہے یہاں جھگڑا اٹھتا ہے، میگ میور کو اس سے شدید اذیت اور کوفت ہوتی ہے بک بک جھک جھک سے بچنے کے لیے اسکی مفاہمانہ خو اسے ایک ہی رستہ دکھلاتی ہے چنانچہ میگ میور اپنی کوفت اور غصے کو دبا لیتی ہے، بہت کچھ برداشت کرتی ہے، ساری ذمہ داریاں خود سنبھال لیتی ہے، دیگر افراد خانہ بھی سب بوجھ اسکے سر ڈال دیتے ہیں۔وہ ماحول کو پر امن رکھنے کی اپنی سی کوشش کرتی ہے لیکن یہ ذمہ داریاں اسکی ذہنی کوفت، جسمانی مشقت اور جذباتی بحران میں اور اضافہ کر دیتی ہیں،یاد رہے کہ وہ یہ ذمہ داریاں خوش دلی سے قبول نہیں کرتی اسے اندر سے شدید کوفت اور اذیت ہوتی ہے لیکن وہ اس پر احتجاج نہیں کرتی، مقابلے کی راہ اختیار نہیں کرتی، اسے امن و امان قائم کرنے کی یہی راہ سوجھتی ہے کہ وہ یہ ذمہ داری خود قبول کرلے، چنانچہ وہ اسے نہائت تلخی سے قبول کر لیتی ہے، یہ تلخی اسکے چہرے سے نمایاں جھلکتی ہے۔ میگ میور نہائت فرض شناس اور ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ اب ذرا میگ میور کی اب تک بیان کردہ خصوصیات پر نظر ڈالیں۔ امن پسند رویہ، فتنہ فساد سے کوفت،فرض شناسی، اپنی اور دیگر افراد کی ذمہ داریوں کا بوجھ، اندرونی طور پر کڑہنا لیکن اسکا اطہار کم ہی کرنا، زندگی کی تلخیوں کو پی جانا، یہ ہے وہ صورت حال جو اعصابی تناؤ پیدا کرتی ہے ، مریض چڑچڑا اور سڑیل ہو جاتا ہے، اس ساری صورت حال کا اسکے جگر پر براہ راست اثر پڑتا ہے جسکا ہم آئیندہ سطور میں جائزہ لیں گے۔ (جاری ہے)

No comments:

Post a Comment